تنقید ضرور کریں مگر..!, تحریر:خنیس الرحمٰن

تنقید بری بات نہیں،اگر تنقید تعمیری اور مثبت انداز سے کی جائے تو تنقید برائے اصلاح کہلاتی ہے۔جبکہ حد سے زیادہ تنقیداصلاح کی بجائے بگاڑ پید اکردیتی ہے۔اس سے کئی لڑائیاں جنم لیتی ہیں۔لیکن تنقید ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بن چکا ہے۔پاکستان میں آپ دیکھیں توتنقید برائے اصلاح سے زیادہ ایسی تنقید کی جاتی ہے جس سے مخالفتیں جنم لیتی ہیں۔گذشتہ چند دنوں سے آپ سوشل میڈیا پر دیکھیں توہر پلیٹ فارم پر آپ کو صارفین ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے نظر آئیں گے۔مانا اسد طور نے غلط کیا الزام اداروں پر لگایا،مانا کہ حامد میر صاحب نے ایسی باتیں کی جس سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی لیکن ہمارا کام تھا قانونی راستہ اختیار کرتے یا ایسے انداز سے تنقید کرتے کہ کسی طرح کسی دوسرے کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔یہاں سوشل میڈیا پر حامد میر صاحب پر سوشل میڈیا صارفین ایسی ایسی واہیات گالیاں اور الزامات لگا رہے ہیں جس کو ہم عام انداز میں اپنے گھر والوں کے سامنے بھی بیان نہ کرسکیں۔اسی طرح میں مانتا ہوں ملالہ یوسفزئی نے غلط بیان دیا جو اسلامی اقدار اور روایات کیخلاف تھا لیکن کیا میرا اور آپ کا یہ فرض نہیں بنتا کہ ہم تنقید برائے اصلاح کریں۔لیکن ہم نے تو ملالہ کو ناجائز اور پتہ نہیں کیا کیا ثابت کیا،ہم نے دائرہ اسلام سے خارج کیا۔یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اگر کسی بات کا جواب نہ آتا ہو ہم مثبت انداز اپنانے کی بجائے کافر کافر کے فتوے لگانا شروع کردیتے ہیں،ہم دائرہ اسلام سے خارج کردیتے ہیں۔یہ تو تازہ چند مثالیں میں نے آپ کے سامنے رکھیں آپ اگر غور کریں تو سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر کیا کیا واہیات قسم کے ٹرینڈز نہیں چلائے گئے۔سیاستدان مخالف پارٹی کے سیاستدان کی کردار کشی کررہا ہوتا ہے۔صحافی دوسرے صحافی کے کردار پر انگلیاں اٹھا رہا ہوتا ہے۔اس سے بڑھ کر عامۃ الناس میں اگر دیکھیں ملک کے سربراہ کو نہیں بخشا جاتا یہ یہودی ایجنٹ ہے یہ فلاں ہے یہ فلاں ہے۔بھئی ہمیں کس نے اختیار دیا کسی کے ایمان پر انگلیاں اٹھائیں۔ایک اور ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے جو ہماری جماعت کا ہو،جو ہماری پسند کا ہو اس کی کیا بات ہے جی وہ تو واہ واہ آج تو دل جیت لیے لیکن جو مخالف ہو یا ہم پر تنقید کرے ہم اس کی کردارکشی پر اتر آتے ہیں۔اسی طرح مذہبی حلقوں کی طرف نظر دوڑائیں تو ایک مسلک دوسرے مسلک کو غلط ثابت کررہا ہوتا ہے۔کئی مساجد میں تو مولوی صاحبان کا درس یا خطبہ ہی ختم نہیں ہوتا اس وقت تک جب تک کسی کو غلط نہ ثابت کردیں۔تنقید ضرور کریں مگر ایسی تنقید جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو عزت نفس مجروح نہ ہو،حال ہی میں پاکستان کی خاتون صحافی شفاء یوسفزئی کا کیس بھی سامنے آیا۔جنہیں وی لاگر اسد طور نے تنقید کا نشانہ بنایا۔حالانکہ جس بات پر تنقید کی اس پر اصلاح کی ضرورت تھی لیکن اسد طور شفاء یوسفزئی کے کردار پر اتر آئے اور ان کے خاندان تک کو برا بھلا کہہ دیا۔پاکستان میں تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یہ کام میں نے اور آپ نے کرنا ہے۔جس دن پاکستان کےلکھاری،کالم نگار،صحافی اور اینکر ایک دوسرے کی کوتاہیوں اور غلطیوں پر ان کی اصلاح کی کوشش کرنا شروع کردیں گے تو اس موذی مرض میں  کمی واقع ہو جائے گی۔یہ موذی مرض نوجوان طبقے میں زیادہ پایا جاتا ہے۔میری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور تمام ایسے پلیٹ فارمز سے درخواست ہے کہ وہ تنقید برائے اصلاح کو فروغ دیں تاکہ ہمارے اندر آپس میں نفرتوں کی بجائے محبتیں پیدا ہوں ۔ہم مسلمان ہیں اسلام کے نام لیوا ہیں،ہمارا مذہب ہمیں اصلاح کا حکم دیتا ہے نہ کہ کسی کی کردار کشی کا۔پیارے پیغمبر ﷺ کے کردار پر باتیں کی گئی،راستے میں پتھر برسائے گئے،مارنے کی سازشیں کی گئیں لیکن آپ نے مخالفین پر طعن و تشنیع کرنے کی بجائے اپنا مشن جاری رکھا۔ہم بھی اسی نبی ﷺ کے امتی ہیں خدارا آپ کے فرامین پر ہی عمل پیرا ہوجائیں اور نفرتوں کی بجائے محبتوں کو فروغ دیں۔

One thought on “تنقید ضرور کریں مگر..!, تحریر:خنیس الرحمٰن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔