پاکستان میں تخریب کاری کا ذمہ دار کون۔۔؟


یہ بات اٹل ہے کہ پاکستان ہمیشہ امن چاہتا ہے اور اس کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دیں ۔پاکستان نے اپنی کئی قیمتی لوگوں کو کھویا ،سکولوں میں پڑھتے معصوم بچوں کو کھویا ،مدارس میں دوران تدریس خون بہایا گیا ۔پاکستان میں مذہبی و لسانی لڑائیوں کو پروان چڑھایا گیا جس کےنتیجے بھیانک نتائج بھگتنے پڑے۔اس سے بڑی قربانی پاکستان نے عالمی پابندیوں کا سامنا کرکے جھیلی۔پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ،پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں دھکیل کر اپنی پاکستان کو دنیا کے سامنے عالمی دہشتگرد کے طور پر پیش کیا گیا ۔لیکن ان سب مصیبتوں کا پاکستان نے سامنا کیا اور وہ دن بھی آیا جب دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان دہشتگرد نہیں بلکہ خطے میں امن کے قیام میں پاکستان کا بڑا کردار ہے ۔
پاکستان میں جب بھی تخریب کاری ہوئی اس نے پیچھے بھارت ملوث رہا لیکن دنیا یہ ماننے کو تیار نہیں تھی ۔عالمی فورمز پر اس بات کو رکھا گیا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث ہے بلکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا اور اس کا یہ اعتراف ایک ٹھوس دلیل تھی کہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث رہا ۔
گذشتہ سال لاہور کے علاقے میں دھماکہ ہوا جس میں بھارتی ایجنسی ’را‘ کے ملوث ہونے ٹھوس شواہد ملے ۔وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) محکمہ انسداد دہشت گردی پنجاب عمران محمودکے ہمراہ پریس کانفرنس کی ۔عمران محمود نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ 23 جون 2021 کو جوہر ٹاؤن لاہور میں دھماکا ہوا تھا، آج تک کسی دہشت گرد تنظیم نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی لیکن ہم نے 16 گھنٹوں میں اس کیس کی تہہ تک پہنچ چکے تھے، اس دھماکے میں تین ملزمان ملوث تھے، تینوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ دو ملزمان کو پانچ سے چھ دن بعد گرفتار کیا گیا تھا۔23 جون 2021 کو لاہور میں ہونے والی دہشت گردی میں "را” ملوث ہے، ایک دہشت گرد کو اس سال اپریل میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا، عید گل کو پکڑا تو سمیع الحق کی نشاندہی ہوئی، سمیع الحق سال 2012 سے را کے لیے کام کرتا تھا، بھارتی ایجنٹ سمیع الحق کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا اور اس کا اسلم، سنجے تیواری اور وسیم سے رابطہ تھا، بھارت نے8 لاکھ 75 ہزارڈالرز 4 افراد کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے دیے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ جن لوگوں نے یہاں آپریٹ کیا وہ پاکستانی ہیں، حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب واقعہ ہوا تھا، حافظ سعید گھر پر نہیں تھے، شاید فیملی ٹارگٹ تھی، قیاس ہے کہ حافظ سعید کی رہائش گاہ ٹارگٹ تھی لیکن پولیس کی موجودگی کی وجہ سے گاڑی حافظ سعید کی رہائش گاہ تک نہیں پہنچ سکی۔
پاکستان نے اپنا مقدمہ عالمی طاقتوں کے سامنے بھی رکھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ روز نیویارک میں نیوز کانفرنس کی انہوں نے عالمی برادری کے سامنے اس مسئلے کو پیش کیا کہ دنیا کے سامنے امن کا دعویدار بذات خود خونی اور سفاک قسم کا ملک ہے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ درحقیقت پاکستان میں دہشت گردی کے لئے بیرون ملک سے معاونت کی گئی، دہشت گرد عناصر کو ہمارے ہمسایہ ملک سے معاونت مل رہی ہے، جوہر ٹاؤن لاہور دھماکے میں بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے، کراچی میں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے اور بلوچستان میں عدم استحکام کے لئے بھی غیر ملکی عناصر سرگرم ہیں جن کی مالی معاونت اور تربیت کی فراہمی روکنا ہوگی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارتی گجرات کا قصائی ہندوستان کا وزیراعظم ہے، بھارتی حکومت گاندھی کا نہیں، گاندھی کے قاتل کے نظریات پر یقین رکھتی ہے۔بھارت کے وزیراعظم بننے تک مودی کے امریکا میں داخلے پر پابندی تھی، بھارت کو بتانا چاہتا ہوں کہ اسامہ بن لادن مر چکا ہے مگر گجرات کا قصائی زندہ ہے۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ بھارت کی سفاکیت کیخلاف وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ خطے میں امن قائم ہوسکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے