نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے پیپکو کے جنرل منیجر صغیر احمد کی طرف سے ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو واپڈا کے ریفرنڈم میں تنظیم ہائیڈرو کی حمایت کرنے کے بارے میں خط لکھنےکو عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیدیا

راولپنڈی:نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمان سواتی نے پیپکو کے جنرل منیجر صغیر احمد کی طرف سے ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو واپڈا کے ریفرنڈم میں خورشیداحمد کی تنظیم ہائیڈرو کی حمایت کرنے کے بارے میں خط لکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عدالتی فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں شمس الرحمان سواتی نے کہا ہے کہ پیپکو کے ایک جنرل منیجر صغیراحمد نے 11جون کو ایک خط تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو لکھا ہے کہ چونکہ خورشید صاحب نے واپڈا اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لئے ون سی بی لے لیا ہے اور این آئی آرسی کے سنگل بینچ نے 2019 میں یکطرفہ فیصلہ بھی کر لیا ہے کہ اب ریفرنڈم ون سی بی یو کے تحت ہوں گے۔ لہذا تمام چیف ایگزیکٹوز صاحبان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ پوری قوت کے ساتھ کمپنی وائز ریفرنڈم کو کچل دیں اور ہائیڈرو کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اصل صورتحال یہ ہے کہ فل بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ اور جی ایم صغیراحمد کاخط بھی معطل کردیا ہے۔ جبکہ این آئی آر سی نے انفیئر لیبر پریکٹس کے حوالے سے جنرل منیجر کو طلب بھی کر رکھا ہے۔ شمس الرحمان سواتی نے اس امر پر سخت حیرت کااظہار کیا ہے کہ پیپکو کے ایک جنرل منیجر کو ججز کے اختیارات کس نے دیئے اور وہ کس طرح یونین کے ریفرنڈم میں مداخلت کر سکتے ہیں۔ ##

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔