سید منور حسن سے جب صحافی نے انٹرویو کے لئے وقت مانگا تو انہوں نے کیا دلچسپ جواب دیا..

راولپنڈی :صحافی جمال عبداللہ عثمان سید منور حسن سابق امیر جماعت اسلامی کی وفات پر ان سے متعلق اپنا ایک یادگار واقعہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

منور حسن صاحب میڈیا کے لیے کبھی پسندیدہ شخصیت نہیں رہے۔ شاید منورصاحب کو بھی میڈیا سے متعلق شدید غلط فہمیاں تھیں۔ وجوہات بہت سی ہوسکتی ہیں۔ میڈیا نے خود بھی سوسائٹی پر اپنا کوئی اچھا اثر نہیں چھوڑا۔ روزی روٹی وابستہ ہونے کے باوجود بہت سے مواقع پر ہمیں خود شرمندگی ہوتی ہے۔

منور حسن صاحب کے ساتھ بطورِ صحافی میرا پہلا رابطہ غالباً 2004ء کو ہوا۔ دلچسپ واقعہ ہے۔ جب بھی منور صاحب کا ذکر چھڑا، یہ واقعہ سب سے پہلے ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے۔ میں نے انہیں انٹرویو کے لیے کال کی۔ اس وقت جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل تھے۔

کہنے لگے:
”میں اندرون سندھ کے دورے پر ہوں۔ آپ کل شہداد پور آجائیں۔ ملاقات ہوجائے گی۔“

میں نے گزارش کی:
”سر میں تو کراچی میں ہوتا ہوں۔“

جواب آیا:
”انٹرویو آپ نے کرنا ہے تو آنا تو آپ کو ہی پڑے گا نا، یا پھر مجھے آپ کے پاس آجانا چاہیے؟“

سناٹا سا چھاگیا۔ میں ایسے کسی جواب کی توقع نہیں رکھ رہا تھا۔ اصولی طور پر منور صاحب کی بات بالکل درست تھی، مگر میڈیا کے ساتھ تعلق رکھنے کے باعث یہ جملہ کافی ناگوار گزرا۔ سو یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ سر جب آپ کراچی آئیں، تب آپ سے رابطہ کرلوں گا۔ خواہش کے باوجود مگر منور صاحب کے ساتھ انٹرویو کی یہ خواہش میری ادھوری ہی رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔