آنکھوں میں آزادی کے خواب سجائے بزرگ کشمیری رہنما ء سید علی گیلانی خالق حقیقی سے جاملے

راولپنڈی (پوٹھوہار ٹائمز) آنکھوں میں آزادی کے خواب سے سجائے اکانوے سالہ بزرگ کشمیری رہنماء سید علی گیلانی نے خالق حقیقی سے جاملے, کشمیر میڈیا سیل کے مطابق اہلخانہ نے انتقال کی تصدیق کردی ہے, سید علی گیلانی 5 اگست کے لاک ڈاؤن سے نظر بند تھے اور عرصہ دراز سے علیل تھے, سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں میں سب سے سینئر اور بھارت سے آزادی کی جدوجہد میں سب سے آگے تھے۔ 29 ستمبر 1929ء کو مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع بندی پورہ میں پیدا ہونے والے سید علی گیلانی نے ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کی اور گریجویشن اورینٹل کالج لاہور سے مکمل کیا۔سیدعلی گیلانی نے سیاسی زندگی کے آغاز میں تحریک حریت کے نام سے اپنی پارٹی بنائی تاہم بعد ازاں جماعت اسلامی جموں کشمیر کا حصہ بن گئے۔وہ متعدد بار ریاستی اسمبلی کے رکن بھی رہے لیکن 1989ء میں جب مزاحمتی تحریک کا آغاز ہوا تو انہوں نے اپنی نشست سے استعفیٰ دیدیا۔1993ء میں میر واعظ عمر فاروق اور دیگر حریت رہنماؤں کے ساتھ مل کر آل پارٹیز حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی اور چار سال بعد تنظیم کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔21 اکتوبر 2010ء کو سید علی گیلانی نے نئی دلی میں ‘’آزادی واحد راستہ ‘’ کے عنوان سے سیمینار منعقد کروایا تو ان پر غداری کے مقدمے قائم کیے گئے۔2006ء میں حریت رہنما کے گردوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی لیکن پاسپورٹ 1981ء سے بھارتی قبضے میں ہونے کے باعث وہ اپنا علاج کروانے کے لیے باہر نہ جا سکے۔ 2007ء میں شدید عوامی ردعمل پر منموہن سنگھ نے ان کا پاسپورٹ واپس تو کر دیا لیکن بھارتی مداخلت کے باعث امریکا نے علاج کے لیے ان کو ویزہ جاری نہیں کیا، مجبوراً علاج کروانے دبئی چلے گئے۔سید علی گیلانی پاکستان کے حمایتی تھے اور وہ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے تھے, سید علی گیلانی کی وفات سے تحریک آزادی میں ایک خلا پیدا ہوگیا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔