تاریخی قلعہ نندنا کا سفر نامہ


صدیوں پرانا تاریخی قلعہ نندنا پنڈ دادنخان سے 30 کلومیٹر دور باغانوالا گاؤں کے پاس پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔ ہم نے وہاں تک پہنچنے کے لیے نسبتا لمبا راستہ چنا۔ جو جہلم پنڈ دادنخان روڈ سے براستہ پنن وال اور پھر کوٹلی پیراں سے ہوتا ہوا شمال کی جانب کوہستان نمک کے پہاڑی سلسلے کی جانب جاتا ہے۔ اس لمبے راستے کو چننے کا واحد مقصد کچھ دوستوں اور عزیزوں کو شامل سفر کرنا مقصود تھا۔ یہاں سے ہمارے اس سفر کے گائیڈ و میزبان محترم ندیم خان بھائی ہمارے ساتھ چلنے کو تیار تھے۔ ندیم بھائی نے ہماری ضیافت کا سامان موٹر سائیکل پر لادا اور ہمارے ساتھ ہی عازم سفر ہوئے۔ کوٹلی پیراں سے ہی مزید ایک موٹر سائیکل پر میصم شاہ صاحب بھی ہمارے ساتھ مل گئے یوں تین عدد موٹر سائیکلوں کا قافلہ بن گیا۔ کوٹلی پیراں کی گلیاں بارش کے بعد پانی سے بھری ہوئی تھیں۔ کیچڑ اور ٹوٹے ہوئے راستے پر موٹر سائیکل پھسل جانے کا بھی ڈر تھا۔ لیکن منزل کا دلکش خیال کسی ڈر پر غالب نہ آ سکا۔ اور سفر احتیاط کے ساتھ سنبھل سنبھل کر جاری رہا۔ کوٹلی کے بعد کوٹ عمر نسبتا پرانا گاؤں ہے۔ وہاں بھی ٹوٹی پھوٹی گلیاں پانی سے لبریز تھیں اور وہی کیچڑ اور پھسلن ہمارے استقبال کے لیے منتظر۔ جوں ہی کوٹ عمر قصبے سے نکلے تو سامنے کارپٹ روڈ دیکھ کر حیرت کے ساتھ ہی بے انتہا خوشی ہوئی۔ ضلع جہلم میں پسماندگی کی علامت تحصیل پنڈ دادنخان کے عام سے گاؤں میں ایسی سڑک دیکھ کر اس کی تعمیر میں شریک ہر حصہ دار کے لیے دل سے دعا نکلی۔ موٹر سائیکل جو پہلے ہچکولے کھاتی ہوئی چیخو پکار کر رہی تھی یکایک اس کی بے ڈھنگی آواز میں بھی کمال کا سر آ گیا۔ خوبصورت کھیتوں کے بیچو بیچ کبھی سیدھی اور کبھی بل کھاتی پختہ سڑک سے آس پاس کا نظارہ خوبصورت ترین منظر پیش کر رہا تھا۔ یہ زرعی زمین بے حد زرخیز ہے۔ یہاں گندم، مکئ، آلو، مٹر، اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں جو یہاں کے گاؤں باسیوں کی آمدن کا اہم ذریعہ ہیں۔ کوٹ عمر سے تقریبا 3 کلومیٹر کے بعد دو راستے ہو جاتے ہیں ایک جنوب کی طرف ورنالی گاؤں کی طرف جبکہ دوسرا شمال میں باغانوالا کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جو ہماری منزل تھا۔ علی الصبح ہونے والی بارش کے بعد موسم خوب سہانا ہو چکا تھا عین سامنے باغانوالا کے سرسبز و شاداب پہاڑ اور ہوا کے دوش پر اڑتی موٹر سائیکلوں پر دلکش نظارہ ناقابل یقین حد تک دل کو موہ لینے والا تھا۔ یوں چند کلومیٹر کا سفر پل بھر میں طے ہو گیا۔ اور ہم باغانوالا گاؤں میں پہنچ گئے۔ قلعے کی طرف جانے کا راستہ گاؤں کے اندر سے ہی گزرتا ہے۔ اس گاؤں کے زیادہ تر گھر پرانے طرز تعمیر پر ہی بنے ہوئے ہیں۔ کچھ مکمل کچی مٹی سے بھی اور کچھ کشمیری و گلگتی طرز پر بڑے بڑے پتھروں کو جوڑ کر بنائے گئے ہیں۔ صدیوں پرانے اور تاریخی گاؤں کی گلیاں انتہائی تنگ ہیں جہاں سے موٹر سائیکل کا گزر بھی بمشکل ہی ہوتا ہے تنگ اور بل کھاتی گلیوں سے ہوتے جب ہم پہاڑ کی جانب نکلے تو سامنے حسین و و دلکش نظارے دیکھ کر بے ساختہ سبحان اللہ کہے بغیر نہ رہ سکے۔ باغانوالا گاؤں سے ہمارے ساتھ ایک اور دوست میاں صاحب بھی اپنے موٹر سائیکل پر ہمراہی بن گئے یوں ہمارے ساتھ موٹر سائیکلوں کی تعداد چار ہو گئی۔ ندیم خان بھائی نے مشورہ دیا کہ موٹر سائیکل یہیں گاؤں میں کسی کے سپرد کر دئیے جائیں اور آگے کا سفر پیدل چل کر طے کیا جائے لیکن میصم شاہ صاحب موٹر سائیکل پر ہی جانے کو بضد تھے۔ جب انہیں قائل کرنے کی تمام کوششیں بے سود رہیں تو یہ جانتے اور دیکھتے ہوئے بھی کہ اب آگے پہاڑی علاقہ شروع ہو رہا ہے۔ جہاں پیدل چلنا بلکہ چڑھنا بھی دشوار ہے۔ ہم سب بھی جوش میں آ کر ایک بڑی غلطی کر بیٹھے جس کا ذکر آگے آۓ گا یوں موٹر سائیکلوں پر ہی آگے کا سفر کرنا طے پایا۔
اب اس خطرناک ترین راستے پر سفر شروع ہوا تو بے جان موٹر سائیکل بھی معافی مانگنے پر آ گئے لیکن جب ابن آدم ضد پر آ جاۓ تو اسے کون روکے۔ کچھ منٹ کا سفر طے کرنے کے بعد سرپھروں پر یہ راز بھی فاش ہوا کہ پتھریلا ٹریک دشوار اور کٹھن راہ کے ساتھ چڑھائی پر جب موٹر سائیکل چلائیں تو اسے ہموار رکھنا انتہائی مہارت اور دقت طلب مشقت ہے۔
خیر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے پر ایمان پختہ رکھے اور سانسیں بند کیے ہوئے کہ کہیں سانس لینے سے جو حرکت پیدا ہو تو کہیں دو چکے کی سواری اپنا توازن ہی نہ کھو دے۔ یہ سفر جاری رہا۔
پانی کا ایک چشمہ اوپر پہاڑوں سے نکل کر باغانوالا کو سیراب کرتا ہے اس کا صاف شفاف بہتا ہوا پانی اس سرسبز وادی میں جنت کا سماں پیش کر رہا تھا۔ یہ چشمہ صدیوں سے مکمل خاموشی کے ساتھ مستقل چلنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہاں البتہ راستے میں کہیں کہیں جب اونچائی سے اس کا پانی نیچے گرتا ہے تو پر سکون ماحول میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور وادی کی خاموشی کا سکوت ٹوٹ جاتا ہے۔
سامنے ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر قلعہ نندنا کے دو ڈھانچے واضح دیکھے نظر آ رہے تھے۔
یہ قلعہ ہندو شاہی کے زمانے میں جے پال راجہ نے بنوایا تھا جبکہ نندنا کا شیو مندر جے پال کے بیٹے انند پال کی تعمیر ہے۔ 1114ء میں سلطان محمود غزنوی نے جب اس پر حملہ کرکے فتح کرلیا تو ابو ریحان البیرونی نے اس قلعہ میں قیام کے دوران سائنسی تجربات کے لیے رصد گاہ بنائی اور زمین کا قطر ناپا البیرونی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”کتاب الہند” کا بیشتر حصہ یہیں بیٹھ کر لکھا۔ یہ وہی البیرونی ہیں جنہیں ہندوستان کے لوگوں نے ” ودیا ساگر” یعنی علم کا سمندر کا لقب دیا۔ البتہ (بعض تاریخ دان ٹلہ جوگیاں بارے بھی یہی دعوی کرتے ہیں یہ بھی ضلع جہلم میں ہی موجود ہے)
سلطان محمود غزنوی کے بعد نندنا قلعہ تیرہوی صدی میں قمر الدین کرمانی حاکم کے قبضے میں آگیا اس کے بعد جلال الدین خوارزم کے ایک جرنیل نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا پھر چنگیز خان کے ایک افسر ترتی مغل نے یہ قلعہ فتح کر لیا بعد میں اس قلعہ کو التتمش نے فتح کیا۔ مغل بادشاہ بابر نے بھی اس قلعہ کو فتح کیا- اکبر بادشاہ نے یہاں ایک باغ لگایا تھا موجودہ گاؤں باغانوالا اسی باغ کے نام سے ہے جس کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ مندر کے سامنے ایک مسجد بھی موجود ہے جو کچھ مورخین کے مطابق سلطان محمود غزنوی جبکہ کچھ کے خیال میں التتمش دور کی ہے۔ اس قلعے کے شاندار ماضی اور اس پر بدلتے حاکموں کو یاد کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ انسان جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اس کی حیثیت اس فانی دنیا میں فقط مہمان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ پتہ نہیں کیوں یہ زندہ حقیقت ہمارے حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل کیوں ہے ؟ شاید انسانی فطرت میں ہی دنیا کا لالچ طاقت کا گھمنڈ اور اختیارات کا نشہ اس چھوٹے سے نقطے پر بھاری ہو۔ خیر انہی خیالات کے سمندر میں ڈوبا ہوا سفر اس وقت تھم گیا جب ایک مقام پر اچانک ندیم خان بھائی نے موٹر سائیکل روک دیا اور تقریبا حکم دیتے ہوئے بتایا کہ اسی جگہ پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ تاکہ کھانا پکانے کا کام نمٹایا جا سکے۔ ویسے موٹر سائیکلوں پر ہونے والی اچھل کود نے شکم میں بل ڈال دئیے تھے۔ سو ان کی بات من وعن تسلیم کرنے میں ہی راحت محسوس ہوئی اس وقت دوپہر ڈھل چکی تھی۔ چونکہ قلعہ نندنا دیکھنے کے اشتیاق میں صبح کا ناشتہ بھی بھول گئے تھے لہذا بھوک اگر جوبن پر نہ سہی لیکن کچھ کم بھی نہ تھی۔ کھانا بنانے کی تیاریاں شروع ہوئیں تو سب اپنی اپنی ذمہ داری میں جُت گئے۔ چونکہ پڑاؤ چشمے کے عین قریب تھا لہذا پانی کی کوئی پریشانی نہ تھی۔ البتہ سرسبز جگہ سے لکڑی تلاشنا مشکل امر تھا۔ چونکہ میزبان ندیم خان بھائی تھے لہذا کھانا بنانے کی اصل ذمہ داری بھی انہیں کے ناتواں کندھوں پر تھی۔ باقی لوگ تو اپنے اپنے ذمہ کے کام نمٹا کر جلدی سے فارغ ہو گئے۔ اور گرمی کی شدت مٹانے کے لیے چشمہ پر موجود قدرتی تالاب میں گود گئے۔ جب چشمے کا ٹھنڈا پانی سردیوں کی یاد دلانے لگا تو باہر آنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس سارے عمل میں دو گھنٹے کا وقت بیت گیا۔ کھانا تیار ہو چکا تھا اور دیسی مرغ کڑاہی کی دل موہ لینے والی خوش کن مہک سے یوں لگتا جیسے پوری وادی کی فضاء بھی معطر ہو گئی ہو۔ کھانے کی مہک اور بھوک سے برا حال اب مزید انتظار ناقابل برداشت تھا۔ جلدی جلدی سب قدرتی دستر خواں یعنی “کھلی زمین” پر براجمان ہو گئے اور کھانا سامنے تیار پڑا تھا۔ بسم اللہ پڑھتے ہی نان کڑاہی کے ساتھ خوب انصاف کیا نان آتے وقت ہی ساتھ لاۓ گئے تھے۔ کھانا کھاتے وقت اس بات کا عقدہ بھی کھلا کہ ندیم خان بھائی کھانا بنانے کے فن سے خوب آشنا اور کسی پیشہ ور طباخ کی طرح بہت اچھے ماہر ہیں۔ ما شاء اللہ ذائقہ ایسا کہ سب انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے اس وقت تک عصر نصف گزر چکی تھی۔ اب اگلے سفر کی تیاری شروع ہوئی تو ندیم خان بھائی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس مقام سے آگے موٹر سائیکلوں پر سفر ناممکن ہے۔ ہمیں پیدل جانا ہو گا۔ اور قلعہ تک پہنچنے کا راستہ پہاڑ کا پورا چکر کاٹ کر طے ہو گا جو پیدل چلنے پر ایک گھنٹے کی مسافت ہے۔ اب ہمیں اس غلطی کا احساس ہوا جو نیچے باغانوالا سے اوپر آتے وقت ہم سے سرزد ہوئی۔ یعنی موٹر سائیکل اب ہم پر وہ بوجھ بن گئے جو ہم اٹھانے سے قاصر تھے۔ اور اس ویرانے میں انہیں سپرد خدا چھوڑنا بھی بےوقوفی کے زمرے میں آتا تھا۔ اب قلعہ نندنا اور ہمارے درمیان موٹر سائیکل ٹانگ کا پھندہ بن گئے اور اس بات پر سب میصم شاہ کو گھورنے لگے۔ جبکہ وہ نظیریں چرائے پراعتماد آواز میں واپسی کا مشورہ بھی دے رہے تھے۔ مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق چارونا چار ہمیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ سامان سمیٹا اور پھر بوجھل دل کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔ پیچھے پلٹنے کا سفر بھی آسان نہ تھا جبلی پگڈنڈیوں پر سواری کی اترائی کبھی کبھار موت کے منہ میں جانے کے مترادف لگا۔
اللہ اللہ کرتے جب نسبتاً ہموار جگہ پر پہنچے تو چشمے کے صاف پانی سے شاہ صاحب کو بطور ڈنڈ تمام موٹر سائیکل سروس کرنے پڑے۔ اور باقی افراد ہوا خوری، عکس بندی اور نندنا قلعے کو دور سے ہی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔ باغانوالا پہنچ کر ایک دوسرے کو اس وعدے کے ساتھ الوداع کیا کہ اگر زندگی نے وفا کی تو اگلی بار نندنا کا قلعہ ضرور مسخر کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔