سیاسی تھپڑ …تحریر :خنیس الرحمٰن


ہمارے ٹاک شوز پرائم ٹائم شو کم اور دنگل زیادہ دکھائی دیتے ہیں.جہاں زبان کلامی ,ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑ تو اچھالا جاتا ہے .وہیں بات کئی دفعہ ہاتھا پائی  ,گریبان پکڑنے اور تھپڑ مارنے تک پہنچ جاتی ہے .گذشتہ روز معروف اینکر جاوید چوہدری کے پروگرام کل تک میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا .بدھ کی شب نشر ہونے والے ٹاک شو میں فردوس عاشق اعوان نے سندھ کے وزیر اعلیٰ کے جائے حادثہ پر نہ جانے پر تنقید کی تو قادر مندوخیل نے کہا وفاقی وزیرِ ریلوے بھی تو نہیں پہنچے۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کی حکومتوں کو کرپٹ کہنے لگے .بات اس وقت بڑھی جب قادر مندوخیل نے حکومت کے بعد فردوس عاشق اعوان کو ذاتی طور پر کرپٹ کہہ ڈالا اور طعنہ دیا کہ کرپشن ہی کی وجہ سے ان سے وزرات لے لی گئی۔اس کے بعد دونوں رہنماؤں میں مزید تلخ کلامی ہوئی اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی .وئرل ہونے والے کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قادر مندو خیل کچھ کہتے ہیں جس پر فردوس عاشق اعوان سیخ پا ہو جاتی ہیں۔ پھر دونوں اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد پھر سے دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ہوتی ہے اور پھر ایک ’بیپ‘ کی آواز آتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقعے پر نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔پروگرام کے ختم ہوتے ہی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہونے لگا اور اس وقت فردوس عاشق اعوان ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈنگ پر ہیں .اس واقعہ کے بعد فردوس عاشق اعوان نے اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‏ٹاک شو کے دوران پیپلزپارٹی کے قادر مندوخیل کی جانب دھمکیاں دی گئیں۔ قادر مندوخیل نے بدزبانی اور بدکلامی کرتے ہوئے میرے مرحوم والد اور مجھے گالیاں دیں۔ اپنے دفاع میں مجھے انتہائی قدم اٹھانا پڑا! قانونی ٹیم سے مشاورت کےبعد قادر مندوخیل کےخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ,انہوں نے کہا کہ ‏جاوید چوہدری صاحب کے ٹی وی شو میں پیپلزپارٹی کے قادر مندوخیل کے ساتھ ہونے والی بحث میں تصویر کا ایک رخ دکھایا جارہا ہے۔ قادر مندوخیل کی غلیظ زبان اور گالیوں کو اس ویڈیو کا حصہ نہ بنا کر یکطرفہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ سیاسی مکالمے سے ہٹ کر مندوخیل کی جانب سے میرے والد اور مجھے ‏غلیظ گالیاں بکی گئیں۔ ایسے بدتہذیب افراد کا سیاست اور اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ لوگ سیاست اور معاشرے کے چہرے پر بدنما دھبے ہیں۔ قادر مندوخیل کے اس رویے اور عمل کے خلاف جلد قانونی چارہ جوئی کی جائیگی! ایکسپریس ٹی وی سے درخواست ہے کہ معاملے کی مکمل ویڈیو سامنے لائیں!.فردوس عاشق اعوان صاحبہ اس سے قبل بھی خبروں کی زینت بنی رہیں .یہ پرائم ٹائم ٹاک شوز میں میں ہونے والا پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی اس طرح کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں .گذشتہ سال جون کے مہینہ میں ہی نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں لائیو شو کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنما مسرور سیال اور سینئیر صحافی اور کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی ہاتھا پائی تک جا پہنچی تھی .شو کے دوران پی ٹی آئی رہنما، صدر کراچی پریس کلب پر پل پڑے تھے  اور نہ صرف ان پر تشدد کیا بلکہ نازیبا کلمات بھی ادا کیے تھے .اسی طرح مئی 2018 میں جیو نیوز کے پروگرام ’آپس کی بات‘ میں لائیو شو کے دوران پی ٹی آئی رہنما مرحوم نعیم الحق نے مسلم لیگ ن کے سابق وزیر مملکت برائے نجکاری دانیال عزیز کو تھپڑ رسید کردیا تھا۔میرے خیال سے غلطی اینکرز کی بھی ہوتی ہے وہ ایسا ماحول بننے ہی نہ دیں جس سے نوبت ہاتھا پائی اور بدکلامی تک جا پہنچے .حال ہی میں جو واقعہ ہوا اس میں بھی اینکر صاحب معاملے کو کنٹرول کرسکتے تھے لیکن وہ پہلے خاموشی سے تماشا دیکھتے رہے اور جب معاملہ حد سے بڑھنے لگا تو آگے بڑھے .یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے معاملہ ریٹنگ کا تھا یا کچھ اور …؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔