ہمیں اپنی قومی زبان لکھے اور بولے جانے پر شرمندگی کیوں…غنی محمود قصوری

زبان اللہ کی طرف سے عطاء کردہ ایک خاص نعمت ہے جو کہ معاشرتی ضرورت کے تحت بولی جاتی ہے تاکہ ہمارا مخاطب ہماری بات کو سمجھ سکے
ہر علاقے ملک کی مختلف زبانیں ہیں اور اس کرہ ارض پر تقریبآ 6800 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں مذید ان کے لہجے الگ سے ہیں اور اسی طرح پاکستان میں بھی ہے
ہماری قومی زبان اردو ہے جو کہ پورے پاکستان میں لکھی،پڑھی اور بولی جاتی ہے اس کے علاوہ تقریبآ 70 زبانیں مذید بھی پاکستان میں بولی جاتی ہیں مگر ان تمام کی طرز اور الفاظ بڑی حد تک اردو سے ہی مماثلت رکھتے ہیں
پاکستان کی کل آبادی کے 8 فیصد لوگ اردو بولتے ہیں اور یوں اردو پاکستان کی پانچویں بڑی اور دنیا کی نویں بڑی زبان ہے ماہرین لسانیات کے مطابق ہندی،ہندوی،ہندوستانی،دہلوی اور ریختہ بھی اردو کے قدیم نام ہیں اسی لئے اردو اتنی معروف اور دوسری زبانوں سے ملتی جلتی ہے کہ ہم بنگلہ دیش،انڈیا،نیپال غرضیکہ پورے برصغیر میں کہیں بھی اردو بولیں تو مخاطب کو بڑی حد تک سمجھ آ جاتی ہے اور ہماری معاشرتی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے
دور غلامی میں 1849 میں انگریز نے معاشی ضرورت کے تحت پنجاب میں اردو کو دفتری زبان قرار دیا تھا اور 1947 میں قیام پاکستان کے وقت ریڈیو پاکستان سے قیام پاکستان کا اعلان بھی اردو میں ہی نشر کیا گیا تھا تاکہ ہم انگریز و ہندو کو باور کرا سکیں کہ ہم آزاد ہیں اب اپنی تہذیب و تمدن پر اپنی مرضی سے عمل پیرا ہو سکتے ہیں اور ہماری نسلیں اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت و مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہونگی اسی لئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ پاکستان کی سرکاری و قومی زبان اردو ہے حالانکہ قائد اعظم معاشی ضرورت کے تحت انگریز کے سامنے انگریزی بولتے تھے مگر جب وہ اپنے ہم وطنوں سے ہمکلام ہوتے تو اردو ہی بولتے تھے بطور دلیل ان کی کئی آڈیو،ویڈیو ریکارڈنگ اب بھی موجود ہیں مگر افسوس کہ لاکھوں شہادتوں ،کھربوں روپیہ کی جائیدادوں اور لاکھوں عزتوں کی قربانی دے کر حاصل کرنے والے ملک پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبآ 74 برس بیت گئے مگر افسوس کہ اب بھی ہماری سرکار اور ادروں سے انگریزی نا نکل سکی آج بھی ہمارے دفاتر میں نوٹیفیکیشن انگریزی میں جاری کئے جاتے ہیں اور ہمارا پڑھا لکھا طبقہ روانی سے انگریزی بولتا ہے اور لکھتا ہے اور اس پر فخر محسوس کرتا ہے جبکہ ہمارے ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ اب بھی کم پڑھا لکھا یا پھر ان پڑھ ہے اس لئے ان کو انگریزی کی ہرگز سمجھ نہیں آتی اور وہ اسے سمجھنے کیلئے کسی پڑھے لکھے کے محتاج بن جاتے ہیں
پورے پاکستان میں لوگ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی مادری زبانیں بولتے ہیں اور وہ تمام مادری زبانیں اردو سے کافی مماثلت رکھتی ہیں اس لئے جب کسی سے اردو میں بات کرتے ہیں تو وہ بندہ کافی حد تک اردو کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے اور بڑی حد تک اردو بول بھی لیتا ہے
زندہ قوموں کی پہچان ان کی تہذیب و ثقافت سے ہوتی ہے اور ہم دنیا کی نویں بڑی زبان اردو ہونے کے باوجود انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں حتی انسانی حقوق کا رونا رونے والی این جی اوز ہمارے لوگوں کو انگریزی میں ہدایات دے کر چلی جاتی ہیں اور وہ غریب ان پڑھ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ آخر انہیں کہا کیا گیا ہے
اس کام میں ہماری سرکار بھی کسی سے کم نہیں اب جبکہ پوری دنیا کرونا کی لپٹ میں ہے اور پوری دنیا اپنے باشندوں کو اپنی قومیں زبانوں میں ہدایات جاری کر رہی ہیں وہیں آج ہماری گورنمنٹ نہایت افسوس کیساتھ انگریزی میں ہدایات جاری کر رہی ہے جس کی مثال یہ ہے کہ ان پڑھ و کم پڑھے لکھے لوگوں نے بڑی مشکل سے ہلاک کو انگریزی میں ایکسپائر Expire ,Death رٹا ہوا تھا اب اس کی جگہ Deceased نے لے لی جبکہ تشویشناک کو لوگوں نے سیریس Serious رٹا تھا اب اس کی جگہ کریٹیکل critical نے لے لی اسی طرح Infected, Symptoms اور کئی الفاظ آ گئے جس سے عام لوگ بہت پریشان ہیں کہ بھئی یہ کیا بلا ہیں یہی وجہ ہے کہ قوم کرونا پر جاری ہدایات پر صحیح طرح سے عمل پیرا نہیں ہو رہی کیونکہ ان کو ان الفاظ کا علم ہی نہیں اور لوگوں کے پاس ایک دوسرے کو سمجھانے کا زیادہ وقت ہی نہیں سو انگریز کی غلامی کا طوق اتارتے ہوئے ہمیں اپنے دفتروں،بازاروں،گھروں اور سرکاری اداروں میں سو فیصد اردو بولنی،لکھنی اور پڑھنی چاہیے تاکہ دو قومی نظریے اور آزادی پاکستان کا مقصد واضع ہو سکے اور ہم ایک زندہ و جاوید آزاد قوم کہلوا سکیں اس میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ یہ ہماری قوم زبان ہے ہاں معاشی ضرورت کے تحت انگریزی،ہندی،فارسی،اور دیگر زبانوں کے بولنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ انہیں معاشی ضروت کے تحت سیکھا اور بولا جائے نا کہ قومی زبان سمجھ کر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔