ایف جی سکول کا معاملہ اساتذہ و سکول مالکان سڑکوں پر آگئے

راولپنڈی (پوٹھوہار ٹائمز) واہ فیکٹری و ٹیکسلا کینٹ بورڈز کی حدود میں واقع سیکنڑوں سکولز اور کالجز کے مالکان کی کال پر سینکڑوں، اساتذہ، طلباء و طالبات اور والدین نے واہ فیکٹری مال روڈ سے ملحقہ روڈ پر پرامن احتجاجی مارچ کیا۔ احتجاجی مارچ کی قیادت جوائینٹ ایکشن کمیٹی کے ممبر ابرار احمد خان، شوکت حیات، عثمان گل، چوہدری خالد محبوب ، ملک سفیر عالم ، پرویز اختر، کرنل اظہر، نعیم اشرف ، مشتاق احمد، ارشد مغل ،امجد خان، چوہدری صفدر، عاطف عزیز، رائے عاشق انجم ،سعد بن صابر منہاس ، محمدرفیق قریشی ، کامران سیف و دیگر نے کی۔احتجاجی مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر یہ کلمات درج تھے “میرا سکول گھر سے دور نامنظور نامنظور” ۔ شرکاءنے زبردست نعرہ بازی کی اور چیف جسٹس آف پاکستان ، آرمی چیف آف سٹاف اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کی کنٹونمنٹ کے علاقوں سے بے دخلی فوری طور پر روکی جائے۔ ابرار احمد خان نے کہا کہ عالمی سطح پر فروغ تعلیم کے لیے حکومتی کاوشیں اور اعدادو شمار حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ 37 لاکھ پچاس ہزار طلباء کے لیے تعلیم کے دروازے بند کرنا ہماری جگ ہنسائی کا سبب بنے گی ۔ملک بھر کے کینٹونمنٹس میں احتجاجی مظاہرے دنیا کو اچھا پیغام نہیں دینگے۔ شوکت حیات نے کہا کہ کنٹونمنٹ انتظامیہ نجی تعلیمی اداروں کو تعلیمی سرگرمیوں کے لیے متبادل جگہ فراہم کرے۔ متبادل اور مناسب جگہ کی فراہمی تک نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی سے اجتناب کیا جائے۔ چوہدری خالد محبوب نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں کی بندشایک عظیم المیہ کو جنم دے گی۔ سابق ایم پی اے محمد وقاص نے کہا کہ آرمی چیف نجی تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے اپنا مثالی کردار ادا کریں اور کنٹونمنٹ ایکٹ میں مناسب ترمیم کر کے تعلیمی سلسلہ بحال رکھا جائے۔ عثمان گل نے کہا کہ اگر حکومت ایک ہی دن میں قومی و سینٹ کے دونوں ایوانوں سے 33 بل منظور کروا سکتی ہے تو تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے کینٹونمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل کیوں نہیں لایا جاسکتا۔ کرنل ر اظہر نے کہا کہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ آج کا استاد اپنے تعلیمی ادارے بچانے کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ تعلیم کی بدولت ہی قومیں عروج پاتی ہیں۔ ملک سفیر عالم نے کہا کہ دعویٰ تو ہمارا یہ ہے کہ ہم نے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے لیکن اپنے بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حکومت وقت اس نازک مسلہ کو فوری حل نکالے۔ ملک پرویز اختر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا ملک اس وقت اس طرح کے مسائل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر کنٹونمنٹ کے علاقوں سے تعلیمی ادارے ختم ہوتے ہیں تو ہم اپنے ادروں کے باہر کلاسز لگائیں گے۔ نعیم اشرف نے کہا کہ تعلیم دینے کا جذبہ ہماری سرشت میں شامل ہے ہم اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے۔ احتجاجی مظاہرہ سے عاطف عزیز، سعد بن صابر منہاس، رائے عاشق، امجد خان، ارشد مغل اور مشتاق احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر انتظامیہ ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتی اور مسئلے کا دیر پا حل تلاش نہیں کرتی تو ہماری اگلی منزل ڈی چوک اسلام آباد ہو گی۔ کینٹ انتظامیہ نے اگر کسی ایک سکول کو بھی سیل کیا تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ ہزاروں تعلیمی ادارے اُس کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں کود پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف بعض اقدامات آئین سے متصادم ہیں۔ کنٹونمنٹ عملہ کی طرف سے صرف نجی تعلیمی اداروں کو نوٹسز جاری کرنا عدالتی فیصلے کی غلط تشریح اور نفاذ ہے۔ حکومت کنٹونمنٹ کے زیر انتظام علاقوں سے نجی تعلیمی اداروں کی منتقلی کے معاملے پر سٹیک ہولڈرز سے ملکر کوئی قابل عمل حل نکالے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔