میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا. عریشہ صغیر عباسی

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا .
سفرانسانی زندگی کو سنوارنے اور مرتب کرنے کی کوشش کا ایک سلسلہ ہے سب سے پہلے تو ہماری زندگی ہی سفر ہے اور یہ بہت بڑی حقیقت ہے جی ہاں ؟ میں یہاں بھی ایک سفر کا ہی ذکر کروں گی آجکل انسانی زندگی اتنی گھمبیر ہو چکی ہے کہ سیر و تفریح کا موقع ہی نہیں ملتا اور جہاں تک صحافی کی زندگی پہ روشنی ڈالی جائے تو وہ اتنی زہنی الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں کہ خود کس دنیا میں جی رہے ہیں وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں
ان ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے پوٹھوہار ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے ایک ٹرپ کا ارادہ کیا جس میں انھوں نے مطالعاتی سمیت سیر و تفریح تک ساری جگہوں کو مدنظر رکھا
؟؟؟؟؟
یہاں آکے بات کا رخ بدلے گا
؟؟
اب ارادے تو نیک تھے تیاری عروج پہ تھی تاریخ طے تھی
اجازت نامے لکھوانا وہ بھی گھر والوں سے خواتین کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے لیکن جیسے تیسے کر کے اس مرحلے کو طے کیا اور اجازت تو مل ہی گئی مگر
بات ادھر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ اور بہت سی رکاوٹیں ابھی سر کرنا تھی جنکی فہرست لمبی ہے جہاں تک فہرستوں کو دیکھا جائے تو ہر ایک کا نام سرفہر ست ہوتا ہے کچھ اسی طرح کے حالات مجھ نا چیز پہ بھی گزرے شروع میں تو بڑے دوستوں نے چاہنے والوں نے خیر خواہوں نے حامی بھری اور ایسا بھی کہا گیا کہ ایسا بھی کوئی سفر ہو سکتا ہے جس میں ہماری رائیں جدا جدا ہوں لیکن لیکن
وقت گزدتا گیا مجبوریاں آتی گئیں اور سارے دوست تسبیح کے دانوں کی طرح ٹوٹ کے الگ ہوتے گئے اور اخرکار میں بھی نے بھی ٹھان لی کہ چاہے کوئی جائے یا نہ جائے میں نے تو ضرور جانا یہی وجہ کہ راقم نے سیر و تفریح کی تیاری شروع کی
اور آخرکار اکیس نومبر (2021)بروز اتوار صبح 8 بجے کارواں اپنی منزل کی طرف چل پڑا وقت کی پابندی کی بات کی جائے تو ہم پاکستانی عوام ہیں وقت کی پابندی یہ ہماری فطرت میں ہی شامل نیں یہی وجہ کہ راقم ہر بار کی طرح اس بار بھی سب سے لیٹ پہنچی وقت جو سبکو دیا گیا تھا سات بجے کا اور میں موصوفہ تو 8 سے بھی اوپر ٹائم ہو گیا جب بس میں پہنچی جہاں سلام دعا کے بعد تاخیر سے پہنچنے پر سوال جواب کا سلسلہ تو ہونا ہی تھا خیر جو ہونا تھا ہو گیا سفر کا آغاز ہوا اور ہمارا پہلا پڑاؤ ٹیکسلا میوزیم تھا جہاں ہماری تنظیم کے صحافی ممبران ہمیں خوش آمدید کرنے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے ٹیکسلا میوزیم راولپنڈی کی تحصیل ٹیکسلا میں واقع ہے یہ ایک سائٹ میوزیم ہے اور یہ بنیادی طور پر گندھارا آرٹ پر مشتمل ہے، ٹیکسلا میں قدیم تہذیب کے آثار موجود ییں۔ یہاں کی سائٹس کا تعلق 600 قبل مسیح اور 700 قبل مسیح تاریخ سے ہے۔ ٹیکسلا میوزیم کا کام 1918ء میں شروع ہوا۔ ٹیکسلا میوزیم پاکستان میں ساتویں صدی کے پہلے سے پتھر بدھ کے مجسمہ کا سب سے اہم اور جامع مجموعہ میں سے ایک ہے۔
ٹیکسلا ایک تاریخی شہر ہے یہاں سے نوادرات برآمد ہونے کے آثار ملتے ہیں۔ جن میں گندھارا اسٹون، گولڈ، سلور اور جیولری اسٹون، لکھائی کا سامان، ڈومیسٹک ہائوس ہولڈ کا سامان، ٹوائلیٹ کا سامان، کوائنز، ٹولز اور دوسرے اشیاء شامل ہیں۔
میوزیم میں سجائے گئے تمام نوادرات ٹیکسلا کی وادی سے کھدائی کے دوران حاصل کئے گئے ہیں۔ میوزیم میں تین بڑے ہال ہیں مرکزی ہال نسبتاً بڑا ہے اس ہال میں دو چھوٹے چھوٹے کمرے بھی ہیں اس ہال کے وسط میں ’’موہڑہ مراد‘‘ میں دریافت ہونے والے ایک اسٹوپہ کی نقل رکھی گئی ہے۔ یہ ہال پتھر پر تراشیدہ بتوں اور پتھروں سے بنی ہوئی دیگر اشیاء پر مشتمل ہے جبکہ جنوبی ہال میں متفرق اشیاء جن میں لوہا، تانبا اور پتھروں سے بنائی گئی اشیاء اور آگ میں بنے ہوئے مٹی کے برتن ا ور کھلونوں کی نمائش کی گئی ہے۔ مرکزی ہال کے دو کمروں میں سکے، چاندی کے برتن، زیورات اور ایک سوئی ہوئی سازندہ کی نقل مورتی ہے۔ دوسرے کمرے میں سونے کے زیورات ہیں
سفر ختم نہیں ہوتا موصوفہ لیٹ تو تھی لیکن گریٹ تھی ناشتے کے بغیر تھی اب چائے کی طلب شدت اختیار کر رہی تھی پھر ہمارے صحافی محمد قاسم جو ٹیکسلا میں ہمارا انتظار کر ریے تھے انکے ہمراہ خضر حیات خان صاحب بھی موجود تھے انکے بے پناہ اپنائیت کے پیش نظر ہم انکے گھر پہنیچے قدرت کا نظام ہے جتنی خوبصورتی جہاں رکھتا ہے اس میں رہنے والے لوگ بھی اتنے ہی خوبصورت دل کے مالک ہوتے ہیں اب بات کی جائے انکے خوبصورت گھر کی اور انکی مہمان نوازی کی تو الفظ کم پڑ جائیں بہر کیف چائے پینے کے بعد کچھ سکون ہوا اور تھکاوٹ کم ہوئی تو وقت آیا اس گھر میں موجود قدرت کے شاہکار حسین نظارے دیکھنے اور گھر میں موجود بزرگوں سے گپ شپ کا اس گھر میں جو اپنے طور پر ایک شاہکار تھا میں کچھ ایسی پرانی چیزیں دیکھنے کو ملی جنکے بارے میں سب والدین کی زبانی صرف سن رکھا تھا جیسے کے آٹا پیسنے والی چکی اب ظاہری بات ہے پوٹھوہار کا ٹرپ تھا تو پوٹھوہاری زبان مین بتاتی چلوں اسکو جندر کہتے ہیں جندر کو دیکھا اور ایک دم دماغ میں سوال اٹھا کہ آخر یہ ہے کیا جس پر وہاں موجود بزرگ خاتون نے بتایا کہ محترمہ یہ آٹا پیسنے والی چکی ہے اور یقین کریں مجھے زندگی میں پہلی بار چکی دیکھنے کو ملی اور ایک اچھی یاد زہن میں محفوظ کی
اسکے بعد قدم آگے بڑھے
اگلا پڑاؤ بدھ مت کی قدیم یونیورسٹی بمقام جولیاں ہوا
اسلام آباد سے تیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ضلع ہری پور میں واقع پوٹھوہار کے پہاڑی سلسلہ میں بدھ مت دور کی سب سے قدیم اور پہلی یونیورسٹی موجود ہے۔ یہ یونیورسٹی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے جولیاں نامی گاؤں میں واقع ہے۔ جولیاں صوبہ پنجاب کے شہر ٹیکسلا کے قریب واقع ہے۔ ضلع ہری پور کے جی ٹی روڈ سے تقریباً ایک کلومیٹر کا الگ راستہ یونیورسٹی تک جاتا ہے۔ سڑک بہتر حالت میں ہے اور عام گاڑی کے ذریعے آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی تین سو فٹ بلند پہاڑی پر واقع ہے جہاں تک جانے کے لیے دو سو سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔
جولیاں کا قدیم نامـ “جا ولیاں” تھا جس کے معنی ولیوں اور بھکشیوں کی پناہ گاہ کے ہیں۔ بعد میں جولیاں کو اس کا موجودہ نام برطانوی نوآبادیاتی دور میں دیا گیا جب اس علاقہ میں انگریز ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے کھدائی کی۔ جولیاں کے لفظی معنی “درویش کا تخت” ہیں۔ اس کی وجۂ تسمیہ یہاں پر دریافت ہونے والے بدھ مت کے بدھا ہے، جو عبادت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں بدھ مت کی قدیم ترین یونیورسٹی کی تاریخی باقیات گندھارا تہذیب کےپیش بہا قیمتی اثار ہیں

پہلی صدی میں تعمیر کی گئی اس مذہبی یونیورسٹی میں پیروکاروں کے لیے پچاس سے زیادہ ایسی چھوٹی عبادت گاہیں یعنی’چیپلز‘ دریافت ہوئےہیں۔ یہاں تقریباً ڈیڑھ سو طالب علم ایک وقت میں قیام کر سکتے تھے
برصغیر کو بدھ مت کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ اس دروازے کے اندر گوتم بدھ کی خصوصی مورتیاں محفوظ تھیں لیکن کچھ عرصے قبل ہی ان کی جگہ ان مورتیوں کی نقل رکھ دی گئیں اور اصل مورتیوں کو ٹیکسلا میوزیم منتقل کر دیا گیا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد ٹیکسلا میوزیم کا کنٹرول پنجاب حکومت جبکہ جولیاں اور بعض دیگر سائٹس کا کنٹرول خیبر پختونخوا کے پاس چلا گیا ہے
برطانوی راج کے دوران سنہ انیس سو سولہ اور سترہ میں سر جان مارشل کی نگرانی میں ناکیسہ نامی ایک ہندو نے اس دو منزلہ عمارت کی نچلی منزل دریافت کی۔ یہ سیڑھیاں باورچی خانہ اور فیملی ہال کی جانب جاتی ہیں
بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کو یہاں گیان کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور دونوں اطراف ان کے عقیدت مند کھڑے ہوتے تھے
ملک بھر میں دیگر قیمتی اثاثوں کی طرح جولیاں کو بھی محفوظ بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے فنڈز کی ترسیل تعطل کا شکار ہے۔ عملے کا کہنا ہے کہ اگر بروقت فنڈز نہ دیے گئے تو یہ خدشہ ہے کہ اس سال بارشوں سے خانقاہ کو مزید نقصان پہنچے گا

وہاں پہ موجود بزرگ بابا نے بہت خوب معلومات فراہم کی اس مقام کے حوالے سے
بہر حال اتنی آگاہی کے بعد اور چلنے کے بعد
پیٹ پوچا تہ کم دوجا
سیدھا راستہ لیا اور مین بازار کے ایک پر رونق ہوٹل میں موجود دیسی نما لوگو ں میں جا بیٹھےاور پھر کھانے سے لطف اندوز ہوئےاور اسکا شکر ادا کیا اور اس جگہ کو اللہ حافظ بولا نہ جانے کب یہا ں دوبارہ بیٹھنا نصیب ہو اور اگلے سفر پہ گامزن ہوئے
اگلا پڑاو قدرت کے نظاروں کا حسین مرکز من کو چھونے والا منظر پانی کی لہراتی لہریں ۔ہم اور ہمارا کارواں ۔اور ہم پہنیچے خانپور ڈیم
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے 50 کلو میٹر دُور واقع خان پور ڈیم اپنی خوبصورتی کے باعث سیاحوں کے لیے ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ نہ صرف اسلام آباد بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی سیاحوں کی بڑی تعداد چھٹی کا دن گزارنے یہاں کا رُخ کرتی ہے۔ لوگ ڈیم میں کشتی رانی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ایک سو دس ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہری پور کا خانپور ڈیم اور اس کے پہاڑوں میں گھرے دلکش مناظر اور ٹھنڈا پانی سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں
خانپور بند ایک آبی ذخیرہ ہے جو دریائے ہرو پر خانپورشہر کے قریب تحصیل خانپور ضلع ہری پور، خیبر پختونخوا، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ اسلام آباد‎ سے 40 کلومیٹر دور ہے۔ اس بند سے راولپنڈی اور اسلام آباد‎ کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ پختونخوا اور پنجاب کے وسیع علاقے کو سیراب کرتا ہے اس بند سے نکلنے والی نہر پر راولپنڈی اسلام آباد ایبٹ آباد ہریپورشہر سمیت دیگر علاقوں سے لوگ آتے ہیں گرمیوں کے موسم میں یہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی
ویسے تو قدرت کی ہر چیز اپنے اندر ایک خاص دلکشی رکھتی ہے لیکن وہاں تو جیست قدرت خود موجود ہے
بہر حال جانے کا مقصد تو پورا کرنا تھا اور رب تعالی کے انعام سے محظوظ ہونا تھا
اسکے بعد تمام صحافی دوستوں کے ساتھ کشتی رانی کا خطرناک سفر کیا جن میں موجود تھے سب سے پہلے تو میری بھابھی میرے ساتھ موجود تھی مہوش محسن جو بھابھی کم دوست زیادہ تعریف کے لیے لفظ کم
اجازت نامے سے لیکر اختتام سفر تک میرے ساتھ رہی اور میرے سفر کو یادگار بنایا کشی رانی میں چیئرمین بابر اورنگزیب چوہدری، سرپرست ملک شرجیل لیاقت، نائب صدر لقمان ہزاروی، سیکرٹری فنانس انعام درانی ، شاہدمحمود ،حافظ کامران، سوشل میڈیا ہیڈ مومنہ بتول، حافظ شیر افضل، قاسم جمشید ،قاسم منیر، رباب مریم ،حرا افتخار، ایمن، ارم زبیر، کاشف بخاری، عمر فاروق کے علاوہ دیگر عہدیداران اور ممبران شامل تھے جس میں سب نے خوب انجوائے کیا کشتی سے باہر نکلے تو سامنے جھولوں پر نظر پڑی اور دل کھینچا چلا گیا اور سب ممبران سے راقم نے ضد کی کہ جھولے پر بیٹھا جائے جس پر سب نے بامشکل مگر آمین کہا جس کے بعد سب کشتی والے جھولے پر بیٹھے گئے اور اس کشتی والے کو بھی دماغی جھولے دے دیے مجھ معصوم سمیت ساری خواتین ممبران نے جھولے سے نہ اترنے کی قسم کھائی ہوئی ہو جیسے جو جھولے سے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی خیر وقت کا تقاضہ اور چیئرمین صاحب کے ساتھ ڈھلتی شام کے سائے دیکھتے ہوئے افسردگی کے ساتھ جھولے کو خیر آباد کہا اور پھر اس خاموشی سے چلتے ہوئے پانی کو جو اپنی اندر کتنوں کی خاموشیوں کو دبا کے چلتا ہے حسرت بھری نگاہ سے دیکھا اور قدم واپس بس کی جانب بڑھائے آخر میں پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اتنی عزت دی اتنا پیار دیا
آخر میں ڈھلتا سورج پانی کی خاموشی ساتھیوں کا بچھڑنا اور گاڑی کی سیٹ مجھے بلا رہی تھی کہ پھر کب ملیں گے اب اتنے اداس موقع پہ دل کہتا ہے کچھ احساسات کو چند لفظوں میں بیان کروں
جدائی پہ قائم ہے نظام زندگانی بھی
بچھڑ جاتا ہےساحل سے گلے مل مل کی پانی بھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔