مجھے فخر ہے میں حجابی ہوں۔۔عمالقہ حیدر

اس وقت حجاب پر بے جا تنقید کرنا نام نہاد دانشوروں کا وطیرہ بن چکا ہے ۔حال ہی میں ایک معروف یونیورسٹی کے پروفسیر نے ایک نجی چینل پر بیٹھ کر حجاب کو تنقید کا نشانہ بنایا جو میرے لیے ہی نہیں بلکہ حجاب کرنے والی سب خواتین کے لیے ناگوار گذرا۔دانشور صاحب ہی نہیں بلکہ نجی چینل اور اس کی میزبان کو بھی سوشل میڈیا پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔میں فخر سے کہتی ہوں کہ میں مسلمان معاشرے کی مسلمان عورت ہوں میں حجاب / برقعہ پہننے کو زحمت نہیں رحمت سمجھتی ہوں اور اپنے آپکو اس میں محفوظ محسوس کرتی ہوں جب میرے رب نے پردہ کرنے کا حکم صادر فرما دیا تو دنیا والے کون ہوتے مجھے حجاب / برقعہ پہننے سے روکیں مجھے فخر ہے کہ میں حجابی ہوں۔میں معروف صحافی انصار عباسی کی بھی مشکور ہوں جنہوں نے میری بات کو سراہتے ہوئے کہا کہ درست بات۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پردہ تو ہمارے رب کا حکم ہے اور جب رب العالمین کا حکم آ گیا تو ہودبھائی ہو یا دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا فلسفی اُس کی بات کی کوئی حیثیت نہیں۔https://twitter.com/AnsarAAbbasi/status/1438731956133548034?s=08

میری پیدائش ایک متوسط گھرانے میں ہوئی، والد ایک سرکاری ملازم تھےمیرے تین بہن اور ایک بھائی ہیں، آبائی علاقہ ضلع راولپنڈی کا علاقہ اڈیالہ ہے میں نے اپنی ابتدائی تعلیم راولپنڈی کے ایک سکول گورنمٹ گرلزسیکنڈری سکول کشمیر روڈ سے حاصل کی اور ایف سی اور بی ایس سی گورنمنٹ کالج وقار النساء ٹیپو روڈ راولپنڈی سے حاصل کی،اعلی تعلیم کے لئے فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی راولپنڈی کا رخ کیا اپنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں نےمختلف این جی اویز کے ساتھ کام کیا انسانی فلاح و بہبود کے لئے،ساتھ ساتھ میں نے بیوٹیشن کا کورس کیا اور اپنا بیوٹی پارلر بنایا جو راولپنڈی میں واقع ہے،میں نے لیڈیز گارمنٹس کا روات کے قریب گیگا مال میں شروع کیا جو کامیابی سے جاری ہے،میرا مقصد انسانیت کی فلاح و بہبود ہے اور میں پاکستان کے لئے نیک خواہشات رکھتی ہوں اور آنے والے وقت میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کو ترقی راہ یر گامزن دیکھ رہی ہوں۔میں سمجھتی ہوں کہ عورتوں کو اپنی حدود کی پاسداری کرنی چاہیے اور ابایہ یا حجاب اوڑھ کر گھر سے باہر نکلنا چاہیے کیونکے حجاب یا ابایہ عورت کو حفاظتی کویچ ہوتا ہے اور اس میں عورت کی زینت ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔